مکتب اہل بیت میں بچے کی تربیت :

      بچے کی تعلیم و تربیت میں مکتب اہل بیت کے دئے ہوئے خطوط کو مندرجہ ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

      ۱۔ فقط والدین پر بچے کی تربیت کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ یہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جو معاشرے کے تمام افراد پرعائد ہوتی ہے۔

      امام صادق فرماتے ہیں :

      ایما ناشیء نشاء فی قوم ثم لم یؤدب علی معصیةفان اللہ عزوجل اول مایعاقبھم فیہ ان ینقص من ارزاقھم۔

      ”جو بچہ کسی قوم میں پرورش پاتا ہے اور برائی سے بچنے کے آداب نہیں سیکھتا تو اللہ تعالی اس قوم کو پہلی سزا یہ دیتا ہے کہ اسکے رزق میں کمی کر دیتا ہے“ [1]۔

      امام اس حدیث میں اجتماعی ذمہ داری کا منفی پہلو بیان فرما رہے ہیں اور تعلیم و تربیت کے اقتصاد کے ساتھ تعلق کو واضح کر رہے ہیں کہ تربیت سے ہرقسم کی روگردانی اقتصاد پرمنفی اثر ڈالتی ہے اور معصیت سے معاشرے پرمہلک اثرات مرتب ہوتے ہیں اسی لئے تو قرآن کریم میں ہے :

      ”جب قوم ھود تین سال تک رحمت کی بارش سے محروم رہی تو حضرت ھود نے اپنی قوم کو معصیت سے توبہ اور استغفار کرنے کا حکم دیا:

      ویاقوم استغفروا ربکم ثم توابوا الیہ یرسل السماء علیکم مدرارا ویزدکم قوة الی قوتکم ولاتتولوامجرمین۔

      اے میری قوم اپنے رب سے استغفار کرو پھر اس سے توبہ کرو توآسمان تم پر موسلادھار بارش برسائے گا اور تمہاری قوت بڑھادے گا اور مجرم بن کر اس سے منہ نہ موڑو“ [2]۔

      تو مکتب اہل بیت میں معاشرے کے افراد بالخصوص نوجوانوں کو اطاعت کی تربیت دینا ضروری ہے اور یہ کہ اس کی ذمہ داری فقط والدین پر نہیں ہے اگر چہ انکا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے بلکہ اس کا دائرہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے اور یہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

      ب : بچے کی عمرکا لحاظ رکھنا ضروری ہے اور ہرعمر کے بچے کے لئے تربیت کی ایک خاص روش ہے اور دیگر جدید تربیتی نکات سے پہلے مکتب اہل بیت نے درجہ بدرجہ والی روش اپنانے کا حکم دیا ہے اور آج جدید تربیتی طریقے بھی اسی روش کو اپنائے ہوئے ہیں اور اس کے عملی تجربات سے اس کے فوائد ثابت ہوگئے ہیں اور اس کے شواہد ہیں بچہ جب تین سال کا ہو جائے تو دینی تربیت کے لئے اسے ذکر خدا سکھانا چاہئے امام باقر فرماتے ہیں :

      ”اذا بلغ الغلام ثلاث سنین فقل لہ سیع مرات : قل : لاالہ الااللہ ثم یترک“ ”جب تین سال کا ہو جائے تو اس سے سات مرتبہ ”لاالہ الااللہ“ کہلواؤ  پھراسےچھوڑ دو“ [3]۔

      حضرت علی فرماتے ہیں :

      ادب صغار اھل بیتک بلسانک علی الصلاة والطھور، فاذا بلغوا عشرسنین فاضرب ولاتجاوز ثلاثا“۔

      ”اپنے بچوں کو اپنی زبان کے ساتھ نماز اور طہارت کے آداب سکھاؤ اور جب بچہ دس سال کا ہو جائے تو اسے مار کر بھی سکھاؤ لیکن مارنا تین دفعہ سے تجاوز نہ کرے“[4]         ”پھر پندرہ سے سولہ سال کے بچے کو روزہ رکھنے کاپابند بنایا جائے“۔ جیسا کہ امام صادق نے فرمایا ہے [5]۔

      اور درمیان والے وقفے میں اسے دوسرے ایسے آداب سکھائے جائیں گے کہ جن کے لئے زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑتی ہے جیسے دوسروں کے ساتھ احسان کرنا اور مساکین سے محبت کرنا۔ امام صادق فرماتے ہیں :

      مرالصبی فلیتصدق بیدہ بالکسرة والقبضة والشیٴ وان قل، فان کل شیٴ یرادبہ اللہ وان قل بعد ان تصدق النیة فیہ عظیم۔

      ”اپنے بچوں کوحکم دوکہ وہ اپنے ہاتھ سے صدقہ دیں اگر چہ معمولی چیزہی کیوں نہ ہوسچی نیت کے ساتھ جوچیزاللہ کے لئے دی جائے وہ عظیم ہے چاہے معمولی ہی کیوں نہ ہو“ [6]۔

      قابل ذکرہے کہ آئمہ بچے کی عمرکے لئے تین مراحل بناتے ہیں اورہرمرحلہ میں یہ والدین کی خاص توجہ اورخاص تعلیم وتربیت کاضرورتمند ہوتاہے بطور نمونہ اس بارے میں تین احادیث پیش کرتے ہیں۔

      پیغمبر سے مروی ہے کہ :

      الولد سید سبع سنین،وعبد سبع سنین، ووزیرسبع سنین فان رضیت خلائقہ لاحدی وعشرین سنة والاضرف علی جنبیہ، فقداعذرت الی اللہ[7]۔

      ”بچہ سات سال تک سردار سات سال تک غلام اورسات سال تک وزیرہوتاہے اگران اکیس سال تک اس کی عادتیں بہترہوجائیں توٹھیک ورنہ اسے خوب مارواورمیں نے اللہ کی طرف عذرپیش کردیاہے“۔

      امام صادق فرماتے ہیں : دع ابنک یلعب سبع سنین ویؤدب سبع سنین، والزامہ نفسک سبع سنین، فان افلح، والافانہ لاخیرفیہ [8]۔

      سات سال تک بچے کوکھیلنے کودنے دو، سات سال تک اسے آداب سکھاؤ اورسات سال تک اس کی خوب نگرانی کرو اگرفلاح پاجائے توٹھیک ورنہ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے“۔

      توان دو روایتوں میں بچے کی عمرکے مراحل کوتین حصوں میں تقسیم کیاگیاہے اورہرمرحلہ سات سال پرمشتمل ہے پہلامرحلہ کھیل کودکاہے دوسرا آداب سکھاے کا اورتیسرا اسے سائے کی طرح اپنے ساتھ چمٹائے رکھنے کا۔اورتیسری روایت میں یہ تھوڑی سی مختلف ہے اس میں پہلااوردوسرا مرحلہ چھ چھ سال پرمشتمل ہے اورتیسرا مرحلہ سات سال کاہے۔

      حسن طبرسی اپنی کتاب ”مکارم اخلاق“ میں کتاب المحاسن سے امام صادق کایہ فرمان نقل کرتے ہیں:

      احمل صبیک حتی یاتی علیہ ست سنین، ثم ادبہ فی الکتاب ست سنین، ثم ضمہ الیک سبع سنین فادبہ بادبک، فان قبل وصلح والافخل عنہ۔

      ”چھہ سال تک بچے کواٹھاؤ،چھ سال تکہ اسے قرآن کی تعلیم دو، اورسات سال تک اسے اپنے ساتھ چمٹاکرآداب سکھاؤاگرقبول کرکے صالح بن جائے توٹھیک ورنہ اسے چھوڑدو“ [9]۔

      ج : بچے کی راہمائی میں اسراف سے کام نہیں لیناچاہئے اورایسے تربیتی اسلوب کواپناناچاہئے کہ جس کاسرچشمہ ثواب وعقاب ہوچنانچہ آئمہ غضب کے ساتھ تربیت کرنے سے منع کرتے ہیں امیرالمومنین فرماتے ہیں :

      لاادب مع غضب۔

      ”غضب کے ساتھ کوئی ادب نہیں ہے“ [10]۔

      اس کی وجہ یہ ہے کہ غضب ایسی حالت ہے جوعقل کے بجائے جذبات کو بھڑکاتی ہے اوراس کی وجہ سے تربیتی عمل کے مطلوبہ ثمرات حاصل نہیں ہوتے بلکہ اس کے لئے اسی صبر،انتظار اورعمدہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے کہ جس کی دیرینہ بیماریوں کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔

      پس بچہ مسلسل عقلی راھنمائی کانیازمندہے اوریہ غضب اورجذبات سے حاصل نہیں ہوتی اوراس طرح تربیتی عمل بھی اپنے مطلوبہ اہداف کھودیتاہے اوریہ ایسے ہی ہے جیسے ٹھنڈے لوہے کوکوٹنا۔

      مکتب اہل بیت میں ایسی احادیث ملتی ہیں جومارنے والااسلوب اختیارکرنے کاحکم دیتی ہے جیسے حضرت علی کافرمان ہے

      ادب صغار اھل بیتک بلسانک علی الصلاة والطھور فاذا بلغوا عشرسنین فاضرب ولاتجاوزثلاثا

      ”اپنے بچوں کونماز اورطہارت کے آداب سکھاؤاورجب دس سال کا ہوجائے تواسے مارو لیکن تین سے تجاوزنہ کرو“ [11]۔

      لیکن اس کے مقابلے میں ایسی احادیث بھی ملتی ہیں جومارنے والے اسلوب سے منع کرتی ہیں ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے امام موسی کاظم کے پاس اپنے بچے کی شکایت کی توآپ نے فرمایا:

      لاتضربہ ولاتطل

      ”نہ اسے مارو اورنہ اسے آزادچھوڑ“ [12]۔

      ان دونوں قسم کی احادیث کوملانے سے نتیجہ یہ نکلتاہے کہ شروع سے ہی مارنے کی روش کے اچھے نتائج نہیں ہوتے لیکن بعض مخصوص حالات میں یہ ضروری ہے خاص طورپرنماز اورروزے جیسے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں البتہ ضرورت کی حدتک جیساکہ حضرت علی نے فرمایا:

      فاضرب ولاتجاوزثلاثا

      ”مارولیکن تین دفعہ سے تجاوزنہ کرو“۔

      اس بناپرحتی الامکان بچوں کومارنے سے اجتناب کرناچاہئے کیونکہ یہ چیز مفیدہونے کی بجائے ان کی شخصیت پرمنفی اثرڈالتی ہے لیکن خاص حالات میں ضرورت کے مطابق اس سے استفادہ کیاجاسکتاہے جیسے آٹے میں نمک۔

      نیزمکتب اہل بیت کی طرف سے یہ بھی ہدایت ہے کہ بجے کوطاقت سے زیادہ ایسی تکلیف نہ دی جائے جواس پرشاق گزرے حلبی امام صادق سے اوروہ اپنے والدگرامی سے روایت کرتے ہیں :

      انانامرصبیاننابالصلاة،اذاکانو بنی خمس سنین، فمروا صبیانکم بالصلاة اذاکانوا بنی سبع سنین۔ ونحن نامرصبیاننا بالصوم اذاکانوا بنی سبع سنین بمااطاقوامن صیام الیوم ان کان الی نصف النھاراواکثرمن ذلک اواقل، فاذا غلبھم العطش والغرث افطروا حتی یتعودا الصوم ویطیقوہ، فمروا صبیانکم اذاکانوا بنی تسع سنین بالصوم مااستطاعوا من صیام الیوم، فاذا غلبھم العطش افطروا [13]۔

      ہم اپنے بچوں کوپانچ سال کی عمرمیں نمازکاحکم دیتے ہیں اورتم اپنے بچوں کوسات سال کی عمرمیں نماز کاحکم دو اورہم اپنے بچوں کوسات سال کی عمرمیں ان کی طاقت کے مطابق روزے کاحکم دیتے ہیں آدھادن یااس سے کچھ کم یازیادہ اوران پرپیاس یابھوک کاغلبہ ہوجائے توافطارکرلیں تاکہ روزے کے عادی اوراس کے متحمل ہوجائیں اورتم بھی اپنے بچوں کونوسال کی عمرمیں ان کی طاقت کے مطابق روزے کاحکم دو اورجب ان پرپیاس کاغلبہ ہوجائے توافطار کرادو“۔

      اسی دوران بہترہے کہ بچے کواس کی طاقت کے مطابق گھرکے دیگرکاموں کوانجام دینے کاحکم دیاجائے جیسے بسترکامرتب کرنا، چیزوں کاصاف کرنا، کوڑے کرکٹ کوپھینکنا، دسترخوان پرکھانے اوربرتنوں کاسجانا، گھرکے باغیچے کاخیال رکھنااوران کے علاوہ دیگرچھوٹے چھوٹے کام جوبچے کے اندر ذمہ داری اورچستی کی روح کوبیداراوران میں اعتماد پیداکرسکیں۔

      تعلیم بھی بچے کاحق ہے اوریہ تربیت میں معاون ثابت ہوتی ہے اورعلم بھی تربیت کے مثل ایک پاکیزہ وراثت ہے اورعلم نہ ختم ہونے والاخزانہ ہے، لیکن مال چوری وغیرہ کی وجہ سے ضائع ہوسکتاہے۔

      حضرت علی فرماتے ہیں :

      لاکنزانفع من العلم [14]۔

      کوئی بھی خزانہ علم سے بڑھ کرنفع بخش نہیں ہے۔

      اس کانسب کتناہی پست ہو۔

      حضرت علی فرماتے ہیں : العلم اشرف الاحساب ”علم بہترین حسب ہے“۔

      لذا بچے کاباپ پریہ حق ہے کہ اس عظیم شرف کوحاصل کرنے میں اس کی مددکرے اورناخنوں کے اگنے کے وقت سے ہی اسے اس روحانی خزانے کا مالک بنانے کے لئے کوشش کرے، جوہربھلائی کاسرچشمہ ہے شہیدثانی اپنی کتاب ”منیة المرید“ میں لکھتے ہں :

      ”علم کی عظمت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے آسمانوں اورزمینوں کوخلق کرنے کاسبب علم کوٹھرایاہے چنانچہ اپنی محکم کتاب میں ارباب عقل وخرد کونصیحت کرتے ہوئے فرماتاہے :

      اللہ الذی خلق سبع سموات ومن الارض مثلھن یتنزل الامربینھن لتعلموا ان اللہ علی کل شیٴ قدیر وان اللہ قداحاط بکل شیٴ علما [15]۔

      ”اللہ وہ ہے جس نے سات آسمانوں کوپیداکیا اوران کے مثل زمینوں کو،ان میں خدا کاامرنازل ہوتارہتاہے تاکہ تمہیں علم ہوجائے کہ اللہ ہرشی پرقادر ہے اوراس نے ہرشیٴ کااحاطہ کررکھاہے“۔

      یہ آیت علم کے شرف اورسربلندی کے لئے کافی ہے بالخصوص علم توحید جوہر علم کی اساس اورہرمعرفت کاسرچشمہ ہے۔

      اورجتنی عظمت علم کی ہے اتنی ہی تعلیم کی ہے اسی لئے دانالوگ اس حق کوادا کرنے کے لئے ہمیشہ اپنے بچوں کوتحصیل علم کے لئے برانگیختہ کرتے رہتے ہیں۔

      امام صادق فرماتے ہیں :

      کان فیما وعظ لقمان ابنہ، انہ قال لہ: : یابنی اجعل فی ایامک ولیالیک نصیبا لک فی طلب العلم، فانک لن تجد تضییعا مثل ترکہ

      لقمان حکیم نے اپنے بیٹے کویہ نصحیت بھی کی تھی کہ پیارے بیٹے اپنی رات اوردن میں ایک حصہ علم کے لئے مخصوص کرو کیونکہ علم حاصل نہ کرناسب سے بڑا نقصان ہے [16]۔

      آئمہ نے بھی اس حق کی پوری پوری حفاظت وحراست کی ہے اوراسلام نے تحصیل علم کوہرمسلمان مرد اورعورت کافریضہ قراردیاہے اوروالدین کافریضہ صرف خود علم حاصل کرنانہیں ہے بلکہ اولاد کواس کاحکم دینابھی ضروری ہے اسی لئے حضرت علی والدین پرزوردیتے ہوئے فرماتے ہیں :

      مروا اولادکم بطلب العلم  [17]۔

      ”اپنے بچوں کوطلب علم کاحکم دو“۔

      اورچونکہ بچپن میں علم پتھرپرنقش ہوتاہے لذا ترجیحی بنیاد پرتحصیل علم کے لئے اس کے بچپن سے خوب استفادہ کیاجاسکتاہے بالخصوص آج کادورجوعلمی انقلاب، تعلیمی ترقی اورتحقیق ومہارت کازمانہ ہے۔

      مکتب اہل بیت نے تعلم قرآن کوخاص ترجیح دی ہے اسی طرح مسائل حلال وحرام کے حاصل کرنے کوبھی خاص اہمیت دی ہے کیونکہ یہی علم مسلمان کوفرائض کی ادائیگی کے قابل بناتاہے چنانچہ حضرت علی اپنے فرزند امام حسن کواپنی وصیت میںفرماتے ہیں :

      ابتداتک بتعلیم کتاب اللہ عزوجل وتاویلہ وشرائع الاسلام واحکامہ، وحلالہ وحرامہ، لااجاو ذلک بک الی غیرہ [18]۔

      میں نے سب سے پہلے کتاب خدا،اس کی تاویل،شریعت اسلام، اس کے احکام اورحلال وحرام کی تعلیم دی اوراس سے تجاوزنہیں کیا۔

      اورامام صادق سے جب کسی نے کہا، میراایک بیٹاہے میں چاہتاہوں کہ وہ فقط آپ سے حلال وحرام کے متعلق سوال کرے اوردوسرے قسم کے سوال سے پرہیز کرے توآپنے فرمایا:

      وھل یسال الناس عن شی ٴ افضل من الحلال والحرام [19]۔

      آیاحلال وحرام کے متعلق سوال کرنے سے بھی بہترکوئی سوال ہے؟

      اس سے بڑھ کرسنت نبویہ فقط قرآن اورفقہ جیسے علوم دینیہ کی تعلیم ہی کوبچوں کے لئے ضرورت قرارنہیں دیتی بلکہ خاص قسم کے دیگرحیات بخش علوم کے حاصل کرنے پربھی زور دیتی ہے جیسے کتابت، تیراکی اوتیراندازی، اس سلسلہ میں بعض روایات ملاحظہ کریں۔ پیغمبر فرماتے ہیں :

من حق الولد علی والدہ ثلاثة : یحسن اسمہ، ویعلمہ الکتابة ویزوجہ اذا بلغ [20]۔

      ”بیٹے کاباپ پرحق ہے کہ اسے کتابت،تیراکی اورتیراندازی کی تعلیم دے اوراسے فقط پاکیزہ کھاناکھلائے“ [21]۔

      یہاں پرایک بڑا اہم اوربنیادی نکتہ یہ ہے کہ نوجوانوں کی افکارکوانحراف سے بچانے کے لئے انہیں آل محمد کے علوم ومعارف اوران کی احادیث کی تعلیم دیناضروری ہے۔ اسی نکتہ کی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے حضرت علی  فرماتے ہیں :

      علموا صبیانکم من علمناماینفغھم اللہ بہ لاتغلب علیھم المرجئة برایھا۔

      ”اپنے بچوں کوہمارے علوم ومعارف کی تعلیم دو کیونکہ اللہ تعالی انہی کے ذریعے انہیں نفع دے گاکہیں ان پرمرجئہ اپنے نظریات مسلط نہ کردیں“ [22]۔

      امام صادق فرماتے ہیں :

      باردوا احداثکم بالحدیث قبل ان یسبقکم الیھم المرجئة

      اپنے نوجوانوں کوحدیث کی تعلیم دینے میں جلدی کروقبل اس کے کہ مرجئہ تم پرسبقت کرجائیں [23]۔

      چونکہ مرجئہ کاگروہ اس دورمیں ظالمین کے لئے کام کرتاتھا اوران کے لئے نجات کی رسی کودرازکرنے میں مصروف تھا کیونکہ یہ لوگ ظالم کے خلاف قیام سے منع کرتے تھے اوراس کے حساب وکتاب کوروزقیامت پرچھوڑتے تھے اورگناہان کبیرہ کے ارتکاب کرنے والے فاسق کوبھی مومن شمارکرتے تھے اس لئے آئمہ نے نئی نسل کوان گمراہ کن اورمنحرف افکارسے بچانے کے لئے لازم قراردیاہے کہ انہیں صاف وشفاف چشموں سے پھوٹنے والی اسلامی افکارکی تعلیم دی جائے۔

۴:عدل ومساوات کاحق:

      بچوں بالخصوص لڑکے اورلڑکی کے درمیان امتیازی سلوک سگے بہن بھائیوں کے درمیان بھی جدائی کے بیج بودیتاہے اوران کے رشتہ اخوت کوتارتارکردیتاہے کیونکہ بڑی حساس طبیعت کے حامل اوراسکے جذبات بڑے نازک ہوتے ہیں جب وہ محسوس کرتاہے کہ اس کاوالداس کے بھائی کوزیادہ اہمیت دیتاہے تواس کے سینے میں بھائی کے خلاف کینہ پیداہوجاتاہے۔

      والدین یاان میں سے ایک کاکسی وجہ سے اپنے کسی ایک بچے پرزیادہ مہربان ہونااوراس سے زیادہ محبت کرنافطری سی بات ہے لیکن دوسروں کے سامنے اسے زیادہ اہمیت دے کریااسے زیادہ تحفے وتحائف دے کراس کااظہارکرناان میں حزن وملال کے گہرے احساسات کاموجب بنتاہے اوربعض اوقات اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوتے ہیں لذا بچوں کے درمیان عدل ومساوات کرناگویاآفات کے سامنے بندباندھنا اورافراد خانہ کے درمیان معمولی خلش کوروکنا ورنہ ان کے درمیان حسد اورکینے کے جذبات بھڑک اٹھیں گے۔

      حضرت یوسف کاقصہ بھی اولاد کے درمیان عدل ومساوات قائم کرنے کادرس دیتا ہے علامات نبوت کی وجہ سے حضرت یوسف اپنے والدگرامی حضرت یعقوب کے زیادہ قریب تھے اورآپ انہیں دوسرے بچوں پرترجیح دیتے تھے اس چیزنے آپ کے بھائیوں میں بغض وکینے کے جذبات کوبھڑکادیا اوران میں آہستہ آہستہ اس کی نشانیاں ظاہرہونے لگیں یہی وجہ ہے کہ جب حضرت یوسف نے اپنی رفعت اوربلندی پرمبنی خواب حضرت یعقوب کوسنائے تھے توآپ نے حضرت یوسف کوڈراتے ہوئے فرمایاتھا :

      یابنی لاتقصص رؤیاک علی اخوتک فیکیدوا لک کیدا ۔

      ”اے میرے بیٹے اپنا خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرناورنہ وہ تیرے خلاف کوئی مکرکریں گے“[24] ۔

      آئمہ  بھی اس ناقابل فراموش درس سے استفادہ کرنے کاحکم دیتے ہیں اور اسے اپنانصب العین قراردیتے ہیں مسعدة بن صدقة امام صادق سے روایت کرتے ہیں کہ امام باقر نے فرمایا :

      واللہ انی لاصانع بعض ولدی، واجلسہ علی فخذی، واکثرلہ المحبة،واکثرلہ الشکر،وان الحق لغیرہ من ولدی ولکن محافظة علیہ منہ ومن غیرہ، لئلایصنعوا بہ مافعل بیوسف واخوتہ

      ”قسم بخدا میں ایک بچے کے ساتھ اس کے باوجود کہ حق دوسرے کاہے زیادہ محبت کرتاہوں، اس سے نرمی کرتاہوں تاکہ وہ دوسروں سے محفوظ رہے اوراس کے ساتھ وہ کچھ نہ کریں جوحضرت یوسف کے ساتھ کیاگیاتھا“ [25]۔

      پیغمبر  اکرم کی متعدد احادیث میں والدین کویہ سنہری نصیحت کی گئی ہے اوراولاد ووالدین کے ایک دوسرے پرحقوق بیان کئے گئے ہیں۔

      فرماتے ہیں : ان لھم علیک من الحق ان تعدل بینھم، کماان لک علیھم من الحق ان یبروک [26]۔

      ۱۔ ”تیرے اوپران کاحق یہ ہے کہ توان کے درمیان عدل قائم کرے اوران پرتیرا حق یہ ہے کہ وہ تیرے ساتھ حسن سلوک کریں“۔

      نیزفرماتے ہیں :

      اعدلوا بین اولادکم فی النحل۔ای العطاء۔ کما تحبون ان یعدلوا بینکم فی البرواللطف [27]۔

      اپنے بچوں کے درمیان عطاوبخشش میں عدل کروجیسے تم چاہتے ہوکہ وہ حسن سلوک اورمہربانی کرنے میں تمہارے درمیان عدل کریں“۔

      ان احادیث میں آیک دقیق نکتہ یہ ہے کہ حقوق باہمی اورطرفینی ہیں جس طرح باپ کاحق ہے حسن سلوک اسی طرح اس کافریضہ ہے عدل ومساوات اور مزید دقت نظرپیغمبر کی اس حدیث میں ملتی ہے:

      ان اللہ تعالی یحب ان تعدلوا بین اولادکم حتی فی القبل ۔

      اللہ تعالی کویہ پسندہے کہ تم بچوں کے درمیان عدل کرو حتی کہ بوسہ لینے میں بھی“۔

      یہ صحیح ہے کہ اسلامی نقطہ نظرسے والدین کے بارے میں حسن سلوک کاقانون ہے نہ عدل وبرابری کایعنی اگرباپ بیٹے کومحروم رکھے توبیٹے کے لئے اسے محروم رکھناجائزنہیں ہے یااگرباپ اس کااحترا نہ کرے توبیٹے کے لئے روا نہیں ہے کہ اس کااحترام نہ کرے کیونکہ بیٹاباپ کی ایک فرع ہے اوراس کی زندگی باپ ہی کی مرہون منت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ والدین کوبھی بچوں کے ساتھ عدل ومساوات کابرتاؤکرناچاہئے اوریہ فقط مہرومحبت اوررحمت جیسے روحانی اورمعنوی امورہی میں نہیں ہے بلکہ مادی امورمیں بھی ضروری ہے پیغمبر والدین کونصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

ساووا بین اولادکم فی العطیہ فلوکنت مفضلا احدا لفضلت النساء  [28]۔

      عنایت اوربخشش کے لحاظ سے بچوں کے درمیان مساوات قائم کرواوراگرمیں کسی کوترجیح دیتا توعورتوں کودیتا۔

۵۔ اولاد کے مالی حقوق :

      والدین پراولاد کاایک مالی حق یہ ہے کہ انہیں خرچ فراہم کریں اوران کے لباس، طعام اوررہائش جیسی ضروریات کوپوراکریں اورشریعت اسلامی میں اقرباء پرخرچ کرنے کوخاص اہمیت حاصل ہے بلکہ دیگرمقامات پرخرچ کرنے سے بہترہے رشتہ داروں پرخرچ کرنااوراس کازیادہ ثواب ہے، جیسا کہ والدین کی وراثت کے مالک اولادہے اوراسلام اولاد کومحروم کرناجائز قرارنہیں دیتامگرخاص حالات میں جیسے بیٹے کامرتد ہوجانا یاوالدین کوقتل کرنا، اولاد کے حق وراثت کے بارے میں اللہ تعالی فرماتاہے :

      یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین[29]۔

      ”اللہ تعالی اولاد کے سلسلے میں تمہیں وصیت کرتاہے کہ مرد کے لئے عورتوں کے دوبرابرحصہ ہے“۔

      اورمزید ارشاد ہوتاہے :

      وَلَکُمْ نِصْفُ مَا تَرَکَ اٴَزْوَاجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمْ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصِینَ بِہَا اٴَوْ دَیْنٍ  ۔

      ۱۔ ”اورتمہارے لئے اس کاآدھاہے جوتمہاری بیویاں چھوڑ جائیں بشرطیکہ ان کابچہ نہ ہو، اوراگران کاکوئی بچہ ہوتوتمہارے لئے چوتھا حصہ ہے بعد اس وصیت کے جووہ کرتی ہیں یاقرض کے اوران کے لئے چوتھا حصہ ہے اس کاجوتم چھوڑ جاؤاگرتمہارا بچہ نہ ہواوراگربچہ ہوتوان کے لئے آٹھواں حصہ ہے اس کاجوتم چھوڑجاؤبعد اس وصیت کے جوتم کرتے ہویاقرض کے“۔

      یہاں سوال پیداہوتاہے کہ ایک طرف سے والدین کوبچوں کے درمیان عدل ومساوات قائم کرنے کاحکم دیتاہے تودوسری طرف قرآن کہہ رہاہے لڑکے کاحصہ لڑکی کے دوبرابرہے یہ سوال زمانہ قدیم میں آئمہ سے بھی کیاگیاتوان کاجواب ایک ہی تھا چنانچہ اسحاق بن محمدنخعی سے روایت ہے کہ فہفکی نے امام حسن عسکری سے دریافت کیا عورت مسکین کاکیاحق ہے کہ اسے ایک حصہ ملتاہے تومردکودو؟ آپ نے فرمایا: ان المراة لیس علیھا جھاد، ولانفقة، ولاعلیھا معقلة، انماذلک علی الرجال… فقال: نعم، ھذہ المسالة مسالة ابن ابی العوجاء وکان زندیقاوالجواب مناواحد [30]۔

      عورت پرنہ جہاد ہے نہ نان ونفقہ اورنہ ہی خون بہا اوردین بلکہ یہ سب مرد پرہے“ کہتاہے کہ میں نے دل میں سوچاکہ مجھے کسی نے بتایاتھاکہ ابن ابی العوجاء نے بھی یہی سوال امام صادق سے کیاتھا اورانہوں نے اس کایہی جواب دیاتھا توامام عسکری نے میری طرف پلٹے اورفرمایا: ”ہاں ابن ابی العوجاء زندیق نے یہ سوال کیاتھا اورہماری طرف سے اس کاایک ہی جواب ہے“۔

      آئمہ نے اس پراورطریقوں سے بھی روشنی بھی ڈالی ہے جس کاخلاصہ یہ ہے کہ مردعورت کومہردیتاہے اوریہ حق اللہ تعالی نے عورت کے لئے قراردیاہے اورپھر مرد ہے کہ جس پرعورت کاخرچ واجب ہے اورعورت پرکوئی خرچ نہیں ہے لہذا لڑکے اورلڑکی کے درمیان وراثت کایہ فرق عین عدل ہے اورقرآن کریم صراحت کے ساتھ اعلان کرتاہے کہ انبیاء کی اولادکوبھی باپ کی وراثت ملتی تھی (وورث سلیمان داؤد) اورسلیمان ، داؤود کے وارث بنے [31]۔

      اورحضرت علی نے اسی آیت کے ذریعہ حضرت زہرا کے اپنے والدگرامی کے وراثت کے حقدارہونے پردلیل دیتے ہوئے فرمایاتھا : (ھذاکتاب اللہ ینطق)۔

      ”یہ اللہ کی کتاب بول رہی ہے “ اس پرلوگ خاموش ہوگئے اوراپنے باطل موقف سے پیچھے ہٹ گئے [32]۔

      اورحضرت ابوبکرنے اس حدیث :

      نحن معاشرالانبیاء لانورث،ماترکناہ صدقة

      ”ہم انبیاء وراثت نہیں چھوڑتے ہم جوکچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتاہے“ کاسہارا لے کرحضرت فاطمة کواپنے والدگرامی کی وراثت سے محروم کردیا۔

      حضرت ابوبکرکایہ قول قرآن کی واضح آیت کے مخالف ہے اوراس نے بنت مصطفی کے دل کوشدید صدمہ پہنچایاکیونکہ آپ اپنے حق کوغصب ہوتے دیکھ رہی تھیں اورجانتی تھیں کہ ہم اسے حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ اورآپ کی اندوہ ناک وفات میں اس چیزکابھی دخل تھا۔

      اس بات کی طرف اشارہ کرناباقی ہے کہ انبیاء اوصیاء اورصالحین نے اپنی اولاد کووصیت کرنے کی بہت تاکید فرمائی ہے۔

      قرآن کریم حضرت ابراھیم کی اپنی اولاد کوکی گئی وصیت کویوں نقل کرتاہے

:

      وَوَصَّی بِہَا إِبْرَاہِیمُ بَنِیہِ وَیَعْقُوبُ یَابَنِیَّ إِنَّ اللهَ اصْطَفَی لَکُمْ الدِّینَ فَلاَتَمُوتُنَّ إِلاَّ وَاٴَنْتُمْ مُسْلِمُونَ (۱۳۲) اٴَمْ کُنتُمْ شُہَدَاءَ إِذْ حَضَرَ یَعْقُوبَ الْمَوْتُ إِذْ قَالَ لِبَنِیہِ مَا تَعْبُدُونَ مِنْ بَعْدِی قَالُوا نَعْبُدُ إِلَہَکَ وَإِلَہَ آبَائِکَ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَہًا وَاحِدًا وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُون[33] ۔

      ”اوراس کی وصیت کی ابراھیم نے اپنی اولاد کواوریعقوب نے اے میرے بیٹو! اللہ تعالی نے تمہارے لئے دین کوچناہے پس تم نہ مرنامگراس حالت میں کہ تم مسلمان ہوکیاتم اس وقت موجودتھے جب یعقوب کے پاس موت آئی توانہوں نے اپنے بیٹوں سے کہامیرے بعدتم کس کی عبادت کروگے توانہوں نے کہا ہم تیرے آباؤاجداد ابراھیم، اسماعیل اوراسحاق کے معبود کی عبادت کریںگے درحالیکہ وہ ایک معبود ہے اورہم اسی کے فرمانبردارہیں“۔

      اوراحادیث نے ہمارے لئے حضرت آدم کی اپنے بیٹے شیث کوکی گئی قدیم اورقیمتی وصیت کوذکرکیاہے اس کاایک اقتباس پیش کرتے ہیں :

      اذا نفرات قلوبکم من شیٴ فاجتنبوہ، فانی حین دنوت من الشجرة لاتناول منھا نفرقلبی،فلوکنت امتنعت من الاکل مااصابنی مااصابنی۔

      ”دل جس شی سے نفرت کرے اس سے اجتناب کروکیونکہ میں جب درخت کے کھانے کے لئے اس کے قریب گیاتھا تومیرا دل نفرت کررہاتھا اوراگرمیں کھانے سے رک جاتا تومجھ پروہ مصیبت نہ آتی جوآئی“ [34]۔

      اورآئمہ نے وصیت کوھدایت کے لئے ایک وسیلہ اوراپنے نورانی افکار کوآئندہ نسلوں تک پہنچانے کے لئے ایک اسلوب کے طورپراستعمال کیااوروصیت ہی میں اپنی اولاد کومجموعہ عقائد اورزندگی کے تجربات سے آگاہ کردیا کرتے تھے۔

      حضرت علی کی اپنے لخت جگرامام حسن کوکی گئی وصیت کے یہ جملے ملاحظہ فرمائیں توبلاتردید آپ انہیں صاف وشفاف بصیرت،ضمیر کی پاکیزگی اورانسانیت کامظہر کامل پائیں گے فرماتے ہیں :

      اوصیک بتقوی اللہ ای بنی ولزوم امرہ، وعمارة قلبک بذکرہ والاعتصام بحبلہ وای سبب اوثق من سبب بینک وبین اللہ ان انت اخذت بہ! احی قلبک بالموعظة ، وامتہ بالزھادة، وقوہ بالیقین، ونورہ بالحکمة، وذللہ بذکرالموت واعلم یابنی ان احب ماانت آخذبہ الی من وصیتی، تقوی اللہ، والاقتصارعلی مافرضہ اللہ علیک والاخذ بمامضی علیہ الاولون من آبائک، والصالحون من اھل بیتک[35]۔

      ”اے میرے پیارے بیٹے میں تجھے اللہ سے ڈرنے اورتقوی کواپناشعاربنانے کی وصیت کرتاہوں اور یہ کہ تم ذکرخدا سے اپنے دل کوآباد رکھواوراس کی رسی کومضبوطی سے تھامے رکھو اس کے سوا خدااورتمہارے درمیان کونسامضبوط رابطہ ہوسکتاہے اگرتم اس سے متمسک رہے اپنے دل کوموعظہ کے ذریعہ زندہ رکھواور زھد کے ذریعے اسے قوت بخشو اورحکمت کے ذریعے نورانیت اورموت کی یاد کے ذریعے اسے اذیت پہنچاؤ، میرے پیارے بیٹے میری وصیت میں سے مجھے سب سے زیادہ پسندیدہ چیزجسے توحاصل کرسکتاہے اللہ سے ڈرناہے اوراسی پراکتفا کرناجسے اللہ تعالی نے تجھ پرفرض کیاہے اوراپنے باپ دادا کی نیک سیرت سے تمسک کرنا۔

      اورامام حسین کوکی گئی وصیت کابہترین اورحسین ترین ٹکرا ملاحظہ فرمائیں :

      یابنی اوصیک بتقوی اللہ فی الغنی والفقر، وکلمة الحق فی الرضاوالغضب، والقصد فی الغنی والفقر، وبالعدل علی الصدیق والعدو، وبالعمل فی النشاة واوالکسل،والرضی عن اللہ فی الشدة والرخا [36]۔

      ”میرے پیارے بیٹے میں تجھے اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتاہوں غنی وفقرمیں اورحق بات کی رضاوغضب میں اورمیانہ روی کی غنی اورفقرمیں اورعدل کرنے کی دوست ودشمن کے ساتھ، چستی اورسستی میں عمل کرنے اورخوشحالی میں خدائے تعالی سے راضی رہنے کی۔

      ہمارے دوسروں اماموں نے بھی اسی سیرت پرعمل کیا لیکن سب کی وصیتوں کوذکرکرناممکن نہیں ہے اورجوکچھ ہم نے ذکرکیاہے ہمارے ہدف کے لئے کافی ہے۔

آخرمیں ہم ترتیب وارگذشتہ مطالب کاخلاصہ ذکرکرتے ہیں۔

خلاصہ:

      بچے کے باپ پرکئی حقوق ہیں بعض ولادت سے پہلے جیسے حق وجود اوروالدہ کے انتخاب کاحق اوربعض ولادت کے بعدجیسے حق حیات پس کسی کواسے زندہ در گورکرنے یاقتل کرکے اس کی شمع حیات کوگل کرنے کاحق نہیں ہے اوراچھے نام،اچھی تربیت،نفع بخش علوم ومعارف کی تعلیم، اولاد کے درمیان عدل ومساوات قائم کرنا، ان کے مالی حق اداکرنے میں سستی نہ کرنا اور دین ودنیاکے معاملات میں اسے نصیحت کرنے میں بخل نہ کرناجیسے حقوق۔

آخرمیں امام سجاد کے اولاد کے حقوق کے بارے میں رسالے سے ایک اقتباس ذکرکرتے ہیں یہ وہ رسالہ ہے کہ جس کی فصول اورابواب معدن رسالت اورمنبع وحی سے پھوٹتے ہیں، فرماتے ہیں :

      …وحق ولدک ان تعلم انہ منک، ومضاف الیک فی عاجل الدنیا بخیرہ وشرہ، وانک مسؤول عماولیتہ بہ من حسن الادب والدلالة علی ربہ عزوجل، والمعونة علی طاعتہ فاعمل فی امرہ عمل من یعلم انہ مثاب علی الاحسان الیہ، معاقب علی الاساء ةالیہ۔

      ”تم کوتمہارے بیٹے کاحق معلوم ہوناچاہئے کہ وہ تم سے ہے اوراس کی ہرنیکی اوربرائی تمہاری طرف منسوب ہوگی اورجوکچھ تم اسے دوگے تم سے اس کاسوال کیاجائے گااچھی تربیت،پروردگارکے بارے میں راہنمائی اوراس کی اطاعت پرکمک لذا تمہین اس کے ساتھ ایسارویہ اپنانا چاہئے جیسے تمہیں اس کی نیکی پرثواب اوراس کی برائی پرعقاب ملے گا [37]۔

تیسری فصل : میاں بیوی کے باہمی حقوق

پہلی بحث : زوجہ کے حقوق

      درحقیقت خاندان ایک چھوٹامعاشرہ ہے جودوافراد یعنی میاں بیوی کے ذریعے قائم ہے اورمعاشرہ لوگوں کی کثرت کانام نہیں ہے بلکہ ان باہمی تعلقات کانام ہے جن کا ہدف ایک ہو۔

      قرآن کریم نے ان کے درمیان محبت والفت کاہدف اطمینان اورسکون کوقراردیاہے فرماتاہے :

      ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لآیات لقوم یتفکرون۔

      ”اوراس کی آیات میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہارے نفوس سے تمہاری بیویاں پیداکیں تاکہ تم ان کے ساتھ سکون حاصل کرسکو اورتمہارے درمیان محبت ورحمت پیداکردی بیشک اس میں نشانیاں ہیں اس قوم کے لئے جوسوچتے ہیں“[38]۔

      اوریہ معاشرہ ایک ایسے عقد کے ذریعے وجودمیں آتاہے کہ جس میں نہایت واضح الفاظ کے ساتھ طرفین کی طرف سے اس بات کااظہارہوتاہے کہ وہ اس عقد کے مفہوم اوراس کے حقوق وفرائض کوقبول کرتے ہیں ۔

      اللہ تعالی فرماتاہے :

      فانکحوھن باذن اھلھن وآتوھن اجورھن بالمعروف محصنات غیر مسافحات

      ”پس مالکوں کی اجازت سے لونڈیوں سے نکاح کرو اوران کامہرحسن سلوک سے انہیں دے دوان سے جوعفت کے ساتھ تمہاری پابند رہیں کھلے عام زنانہ کریں“ [39]۔

      اس اوردیگرآیات کی روشنی میں فقہا کے نزدیک باکرہ لڑکی کے لئے سرپرست کی اجازت شرط ہے تاکہ عورت کاشوہرکواختیارکرنے کاحق محفوظ رہے اوریہ اجازت اسکی ہتک حرمت کے لئے نہیں ہے بلکہ یہ ایک احتیاطی تدبیرہے تاکہ لڑکی کسی شخص سے نفسیاتی طورپرمتاثرہوکریاجذباتی لگاؤکی وجہ سے شادی کرنے میں جلدی نہ کرے۔ اجازت کے بعد عورت کادوسراحق مہرہے تاکہ اسے یہ احساس رہے کہ وہ مطلوبہ ہے نہ طالبہ یہ احساس اسے اس حیاسے بھی حاصل رہتاہے جواس کی جبلت میں ودیعت کی گئی ہے اوربیوی کومہردینے کامطلب یہ نہیں ہے کہ وہ شوہرکی غلام بن گئی ہے بلکہ اللہ تعالی فرماتاہے :

      وآتوالنساء صدقاتھن نحلة۔

      ”اورعورتوں کوان کے مہرخوشی خوشی دیدو“ [40]۔

      بیوی ایسی شریک حیات ہے جس نے مرد کے ساتھ حقوق وفرائض پرمبنی مشترک زندگی کاعہد کررکھاہے ولھن مثل الذی علیھن بالمعروف…) اورعورتوں کے لئے شریعت کے مطابق اس کی مثل حق ہے جوان پرہے [41]۔

      عورت کے حقوق کے سلسلے میں قرآن کے اس واضح موقف کے باوجود بعض دشمنان قرآن اس بارے میں قرآن پربعض ناروااتہامات لگاتے ہیں۔

      مثال کے طورپرکہتے ہیں قرآن نے عورت پرپردہ واجب کرکے اس کی آزادی کو محدود کردیاہے، گھرکی سرداری مرد کے ہاتھ میں دے دی ہے اوروراثت میں مرد کوعورت سے دوگناحصہ دیاہے یہ لوگ جوحقوق زن کے سلسلے میں مگرمچھ کے آنسوبہاتے ہیں درحقیقت قرآن کے آسمانی کتاب اورشریعت اسلامیہ کامنبع ہونے پرطعن کرتے ہیں اوراشاروں میں کہتے ہیں یہ کتاب مقدس فرسودہ ہوچکی ہے اورترقی یافتہ دورکے تقاضے پورے نہیں کرتی ۔ لیکن تھوڑا ساغوروفکر کریں تویہ اعتراضات تارعنکبوت سے بھی زیادہ کمزور نظرآنے لگیں گے۔

      لیکن اس کے لئے قرآن، اس کے طرزکلام اورعترت طاہرہ کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے کہ جوقرآن کے حقیقی ترجمان ہیں۔

      آپ دیکھیں گے کہ قرآن نے اس وقت عورت کوانسانی حق دیاجب اسے بہت ہی پست اورگھٹیا سمجھاجاتاتھا اوراس میں کسی وشک شبہ کی گنجائش نہیں ہے جب کہ ادیان سماویہ کے علاوہ دیگرادیان عورت کوایک پست مادہ سے پیداہونے والی مخلوق سمجھتے تھے اورمرد کواعلی عنصرسے پیداہونے والا، بعض لوگ تویہاں تک کہنے لگے عورت پلیدگی سے پیداہوئی ہے اوراس کاخالق، خالق شرہے اوردورجاہلیت میں عرب عورت کوجانورسمجھتے تھے اوراسے انسانی صورت میں اس لئے پیداکیاگیاتاکہ مرد کی خدمت کرسکے اوراس کی جنسی خواہشات کوپوراکرسکے۔

خلقت میں مساوی ہونااورذمہ داریاں

      قرآن حکیم نے ان کھوکھلے عقائد کورد کیاہے اورزوردے کرکہاہے کہ اصل خلقت میں مرد وعورت برابرہیں نہ تومردہی اعلی عنصرسے پیداہواہے اورنہ عورت گھٹیا عنصرسے بلکہ ایک ہی عنصریعنی مٹی سے اورایک نفس سے پیداہوئے ہیں چنانچہ فرماتاہے :

      یاایھاالناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدة وخلق منھا زوجھا وبث منھما رجالاکثیرا ونساء [42]۔

      ”اے لوگوں اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک نفس سے پیداکیااوراسی سے جوڑا خلق کیااوران دوسے بہت سارے مرد اورعورتیں پھیلادئیے“۔

      یوں قرآن کریم نے اصل پیدائش میں عورت کومرد کے برابرقراردے کراس کی شان بڑھادی اوراسے انسانی عزت فراہم کی۔

      نیزقرآن ذمہ داری کے لحاظ سے بھی مرد اورعورت کومساوی سمجھتاہے۔ فرماتا ہے :

      من عمل صالحا من ذکراوانثی وہومومن فلنحییہ حیاة طیبة…)۔

      ”جوبھی نیک عمل کرے مردہویاعورت درحالیکہ وہ مومن ہوپس ہم ضروراسے پاکیزگی عطاکریں گے [43]۔

      لیکن مرد اورعورت کے پیدائش،شرافت اورذمہ داری میں برابرہونے کے باوجودان کے درمیان طبیعی اختلاف موجودہے جوان کے حقوق وفرائض کے اختلاف کاسبب بنتاہے لذا عدل کاتقاضایہ ہے کہ مرد اوراس کے فرائض کے درمیان مساوات ہونہ مرد اورعورت کے حقوق وفرائض کے درمیان، وراثت میں مرد کوترجیح دیناعدالت کے خلاف نہیں بلکہ عین عدالت ہے مرد کے اوپرشادی کے آغازہی میں مہرہے اورپھرآخرتک اس کے اوپرنان ونفقہ واجب ہے اسی قرآن نے عورت پرحجاب کوواجب کرکے اس کی آزادی کومحدود نہیں کیابلکہ خود اسے اورمعاشرے میں اس کے احترام کومحفوظ کیاہے قرآن چاہتاہے کہ جب عورت معاشرے میں نکلے تومردوں کے جذبات کوبرانگیختہ نہ کرے لذا اپنی حفاظت کرے اوردوسروں کونقصان نہ پہنچائے۔

      اورقرآن نے عورت کوفکر وعمل کاحق بھی دیاہے اورسے ممکن حقوق دئیے ہیں لہذا عورت کوحق ہے کہ مالک نے،ھبہ کرے، رہن رکھے، بیچے خریدے وغیرہ وغیرہ اسی طرح اسے حق تعلیم بھی حاصل ہے پس عورت اعلی علمی مراتبے تک پہنچ سکتی ہے اورقرآن نے عورت پرظلم وزیادتی کوبھی ناحق قراردیاہے۔

      قرآن ہمارے لئے فرعون کی بیوی آسیہ کی مثال پیش کرتاہے جس نے تنگ فضا کے باوجود اپنے عقیدہ توحید کی حفاظت کی اورقابل تقلید نمونہ ٹھہریں۔

فرماتاہے :

      وضرب اللہ مثلا للذین آمنوا، امراة فرعون اذ قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنة ونجنی من فرعون وعملہ ونجنی من القوم الظالمین

      ” اوراللہ نے مومنین کے لئے مثال بیان کی ہے فرعون کی بیوی کی جب اس نے کہا میرے پروردگار میرے لئے اپنے وہاں جنت میں ایک گھربنااورمجھے فرعون اوراس کے عمل سے نجات دے اورمجھے ظالم قوم سے بخش“ [44]۔

      یہ ایسا قطعی موقف ہے جس میں کوئی لچک نہیں ہے اوریہ مومن آل فرعون کے نرم اورمتواضع موقف سے مختلف ہے۔

      یوں قرآن نے ہمیں یہ بھی بتایاہے اگرعورت ایمان اورفکرسلیم رکھتی ہوتوکس قدرمضبوط اورپختہ ارادے کی مالک ہوسکتی ہے اوراس کے برعکس نوح کی بیوی کی مثال ذکرکی ہے جوراہ ہدایت سے بھٹک کرجذبات وخواہشات کاشکارہوگئی۔ اورسنت نبویہ نے بھی عورت کے ماں یابیوی کی حیثیت والے حقوق کوخاص اہمیت دی ہے پیغمبر فرماتے ہیں :

      مازال جبرئیل یوصینی بالمراة حتی ظننت انہ لاینبغی طلاقھاالامن فاحشة مبینة۔

      ”جبرئیل مجھے مسلسل عورت کے بارے میں وصیت کرتے رہے یہاں تک کہ میں یہ سمجھنے لگاکہ اسے طلاق دیناجائزنہیں ہے مگرکھلی بے حیائی کے بعد“ [45]۔

      اورپھرشوہرپرعورت کے تین بنیادی حقوق بیان کئے گئے ہیں اسے وافرخوراک مہیاکرنا، اس کے شایان شان لباس دینااوراس کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔

حدیث میں ہے :

      حق المراة علی زوجھا: ان یسد جوعھا وان یسترعورتھاولایقبح لھاوجھا۔

      ”عورت کاشوہرپرحق ہے کہ اس کی بھوک کاسدباب کرے اس کے جسم کوڈھانپے اوراس کے ساتھ ترش روئی سے پیش نہ آئے“ [46]۔

      دیکھئے اس حدیث نے بیوی کے حقوق کولباس اورخوراک جیسی مادی ضروریات تک محدود نہیں کیابلکہ اس کے ساتھ سات اسے حسن سلوک کاحق بھی دیا ہے اورعورت شریک حیات ہے لذااس کے ساتھ وسیلہ خدمت جیسا سلوک کرنایاتحکمانہ رویہ اپنانا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔

      اورپیغمبر نے عورت کے ساتھ انسانی سلوک کرنے کاحکم دیاہے اوریہ کہ اگرشوہراس کی رائے کوقبول نہ کرناچاہتاہوتب بھی اس سے مشورہ کرے اورعقل وشرع دونوں اس پرزوردیتے ہیں۔

      عورت کاایک اورمعنوی حق جواس کے مادی حقوق کی تکمیل کرتاہے یہ ہے کہ اس کااحترام کرے اس کی قدردانی کرے، اس سے بات کرتے وقت مہذب جملوں کاانتخاب کرے،گھرکے اندراطمینان کی فضاقائم کرے اورمحبت کی شمع روشن کرے پیغمبر فرماتے ہیں :

       قول الرجل للمراة: انی احبک، لایذھب من قلبھاابدا۔

      ”مرد کاعورت سے یہ کہناکہ میں تم سے محبت کرتاہوں عورت کے دل سے کبھی نہیں جاتا“۔

      امام زین العابدین اوپرذکرکئے گئے حقوق کی تاکیدکرتے ہوئے فرماتے ہیں :

      واما حق زوجتک، فان تعلم انااللہ عزوجل جعلھالک سکنا وانسا، فتعلم ان ذلک نعمة من اللہ عزوجل علیک،فتکرمھا،وترفق بھا، ان کان حقک علیھا اوجب، فان لھا علیک ان ترحمھا، لانھا اسیرتک ،وتطعمھاوتکسوھا،واذا جھلت عفوت عنھا [47]۔

      ”بہرحال بیوی کاحق تومعلوم ہی ہوناچاہئے کہ اللہ تعالی نے اسے تمہارے لئے باعث انس وسکون بنایاہے اوروہ تم پراللہ کی ایک نعمت ہے اس کااحترام کرو اوراس کمے ساتھ نرمی سے پیش آؤاگرچہ تمہارا حق اس پرزیادہ ضروری ہے لیکن عورت کابھی حق ہے کہ تم اس پررحم کرو کیونکہ وہ تمہاری مطیع وپابند ہے،اس لباس وطعام فراہم کرو اوراگرکسی جہالت کاارتکاب کرے تواسے معاف کرو“۔

      اورعورت کااحترام کرنا،اس کی معمولی لغزشوں کومعاف کردیناہی رشتہ زوجیت کوبرقراررکھنے کی واحدضمانت ہے اوریہی اس کے لئے مثالی راستہ ہے اوران چیزوں کاخیال رکھنے بغیرخاندانی عمارت ریت کے گھروندے کی طرح بے ثبات ہے اوراسی وجہ سے طلاق کے اکثرواقعات کاسبب معمولی ہوتاہے چنانچہ ایک قاضی نے میاں بیوی کے چالیس ہزرا اختلافی واقعات کونمٹانے کے بعدکہاتھا”میاں بیوی کے دل میں ہرقسم کی بدبختی دونوں کاکردار ہوتاہے“۔

      اگرمیاں بیوی صبرکادامن تھامے رکھیں اورلاشعوری طور پرسرزد ہونے والی غلطیوں سے چشم پوشی کرلیں توازدواجی زندگی کوبرباد ہونے سے بچایاجاسکتاہے۔ امام زین العابدین اپنے رسالہ حقوق میں اس پرمزید روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:

      واماحق رعیتک بملک النکاح، فان تعلم ان اللہ جعلھا سکناومستراحا وانساوواقیة، وکذالک کل واحدمنکما یجب ان یحمداللہ علی صاحبہ، ویعلم ان ذلک نعمة منہ علیہ، ووجب ان یحسن صحبة نعمة اللہ ویکرمھاویرفق بھا،وان کان حقک علیھا اغلظ وطاعتک بھاالزم،فیما احببتوکرھت مالم تکن معصیة فان لھا حق الرحمة والموانسة ولاقوة الاباللہ [48]۔

      ”نکاح کے ذریعے تمہاری رعایہ بننے والی کاحق تویہ تمہیں معلوناہوناچاہئے کہ اللہ تعالی نے اسے تمہارے لئے سکون،استراحت،انس اوراطمینان کاذریعہ بنایاہے لذا تم میں سے ہرایک کواپنے ساتھی کے حصول پرخدائے تعالی کی حمدکرنی چاہئے اورباورکرناچاہئے کہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے اس پرایک نعمت ہے پس اللہ کی نعمت کے ساتھ حسن سلوک کرناچاہئے، اس کی عزت اورقدردانی کرنی چاہئے اوراس کے ساتھ اچھارویہ اپناناچاہئے اگرچہ اس پرتمہارا حق زیادہ ہے اورپسند ناپسندمیںمعصیت الہی کومدنظررکھتے ہوئے اس کے لئے تمہاری اطاعت کرناضروری ہے کیونکہ اس کابھی انس وشفقت کاحق ہے اوراللہ کے سواکوئی صاحب قدرت نہیں ہے“۔

      ان سطروں میں غورکرنے سے پتہ چلتاہے کہ رشتہ ازدواج ایک عظیم نعمت ہے اوراس پرہمیں شکرخداوندی کرناچاہئے اوراس کے ساتھ نرمی اورحقیقی صداقت کارویہ اپناکرشکرکاعملی ثبوت فراہم کیاجاناچاہئے۔

      اوراگراس کے ساتھ ترش روئی سے پیش آئے اورہروقت اسے جھڑکتارہے توآہستہ آہستہ محبت ومودت کی رگیں کٹتی چلی جائیں گی اورآخرکار یہ چیز چھری کی دھار کی طرح ازدواج کے اس مقدس رشتے کوکاٹ دے گی۔

      امام صادق اس روش کوبیان کرتے ہیں :

      ”جس کے ذریعہ شوہراپنی بیوی کوخوش رکھ سکتاہے اورمحبت کی رسی کوٹوٹنے سے بچاسکتاہے فرماتے ہیں :

      لاغنی بالزوج عن ثلاثة اشیاء فیما بینہ وبین زوجتہ،وہی : الموافقة، لیجتلب بھاموافقتھا ومحبتھا وھواھا، وحسن خلقہ معھا، واستعمالہ استعمالة قلبھا بالھیة الحسنة فی عینھا وتوسعتہ علیھا [49]۔

      شوہرکے لئے اپنے اوربیوی کے معاملات میں تین چیزوں کاخیال رکھناضروری ہے ہم آھنگی تاکہ اس کے ذریعے بیوی کی محبت اوردلی جھکاؤ کوحاصل کرسکے،اس کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آنا اوراپنے دلی میلان کااس طرح استعمال کرناجواسے اچھالگے اوراس پرکھلے دل سے خرچ کرنا“۔

      اس چیزپرتنبیہ کرناضروری ہے کہ یہ فرامین ہوامیں بکھرے ہوئے خالی الفاظ نہیں ہیں کہ جنہیں آئمہ نصیحت کرتے وقت زبان پرجاری کرتے تھے بلکہ انہوں نے عملی طورپرانجام دے کربتایاہے اوران کے یہاں علم وعمل میں کوئی جدائی نہیں ہے۔

      حسن بن جہم روایت کرتاہے کہ میں نے امام ابوالحسن کوخضاب لگائے ہوئے دیکھا توعرض کیاآپ پرقربان ہوجاؤں آپنے خضاب لگایاہے :

      فقال : نعم، ان التھیة ممایزیدفی عفة النساء، ولقدترک النساء العفہ بترک ازواجھن التھیة… ایسرک ان تراھا علی ماتراک علیہ اذا کنت علی غیرتہیة؟ قلت: لا، قال : فھوذلک۔

      ”توفرمایاہاں ایسی چیزوں کواہمیت دینے سے عورت کی پاکدامنی میں آضافہ ہوتاہے اورشوہروں کے ان چیزوں کوترک کردینے کی وجہ سے بیویاں اپنی عفت ترک کردیتی ہیں کیاتجھے اچھالگے گاکہ اگرتوتیارنہ ہوتووہ بھی تیارنہ ہواورگندی ہومیں نے کہانہیں فرمایا: وہ بھی ایسے ہی ہے [50]۔

      توامام درک کرچکے تھے کہ ازدواجی زندگی کامرکزی نقطہ دلی میلان ہے لہذا بیوی کے حق کاخیال رکھتے ہوئے اس کے قلبی میلان کوحاصل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ عدم توافق ازدواجی زندگی میں رخنہ اندازی کاایک بڑاسبب ہے صحیح ہے کہ اسلام میں شادی محض جنسی شہوت کوسیرکرنے کانام نہیں ہے بلکہ اس کا ہدف ایسی صالح اولاد کاپیداکرناہے جس کی وجہ سے زندگی مستمررہے ورنہ توجنسی خواہشات کاسیرکرنااس کے لئے ایک ذریعہ ہے لیکن اس کامطلب یہ بھی نہیں ہے کہ بیوی کے حق میں کوتاہی کرے بلکہ شریعت اسلامی چارماہ سے زیادہ عرصے تک مباشرت نہ کرنے کوجائز قرار نہیں دیتی۔

دوسری بحث  : شوہرکے حقوق

      کشتی ازدواج کوکامیابی کے ساحل تک پہنچانے کے لئے اس کے ناخدا کوپورے پورے حقوق دیناضروری ہیں اورشاید خدائے تعالی کی طرف سے شوہرکو عطاکیاگیاپہلاحق حاکم ہوناہے فرماتاہے :

      الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضھم علی بعض وبماانفقوا من اموالھم۔

      ”مرد عورتوں پرحاکم ہیں کیونکہ خدانے بعض آدمیوں (مردوں) کو بعض آدمیوں (عورتوں) پرفضیلت دی ہے اورمردوں نے اپنامال خرچ کیاہے“ [51]۔

      اورمرد کویہ حق حاکمیت اس کی پیدائشی بالادستی اوراخراجات برداست کرنے کی وجہ سے حاصل ہواہے لیکن مرد کے حاکم ہونے کامطلب یہ نہیں ہے کہ کلی طور پر عورت پرمسلط ہو تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں کوچھوڑ کراس کے ساتھ بے جاسختی کرنے لگے کیونکہ یہ چیزعورت کے حسن سلوک والے حق سے متصادم ہے کہ جسے قرآن نے صراحت کے ساتھ ذکرکیاہے :

      وعاشروھن بالمعروف  [52]۔”اوران کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو“۔

      بلاشک اسلام نے عقلی اورشرعی لحاظ سے جائز تمام کاموں میں بیوی کوشوہرکی اطاعت کرنے کاحکم دیاہے لیکن اسلام اس چیزکوپسند نہیں کرتاکہ حاکمیت کوبیوی کوذلیل کرنے اوراس کی ہتک حرمت کے لئے ہتھیار کے طورپراستعمال کرے۔

      صحیح ہے کہ عورت پرسب سے زیادہ حق شوہرکاہے لیکن اس حق کی صحیح تشریح کرنی چاہئے اوراس کی ایسی تشریح نہیں کرنی چاہئے کہ جس کانتیجہ بیوی کوذلیل کرنا ہو۔ عورت ایک نرم ونازک پھول ہے ہرقسم کی سختی اوردر شتی سے یہ مرجھاجاتاہے اوراسے ایک ایسی باڑ کی ضرورت ہے جوآندھیوں سے محفوظ رکھے تاکہ یہ خوشبو پھیلاتارہے اورمہکنے کے موسم میں بے رونق نہ ہوجائے وہ باڑ وہ مردہے جس میں قربانی کی قوت ہے اورہمہ وقت اس کے لئے تیاررہتاہے۔

      شوہرکادوسراحق یہ ہے کہ وہ جب چاہے بیوی اسے اپنے آپ پرقدرت دے سوائے ان استثنائی طبیعی حالات کے جوحواکی ہربیٹی پرآتے ہیں۔

پیغمبر فرماتے ہیں :

      … ان من خیر(نسائکم)الولود الودود،والستیرة(العفیفہ)،العزیزة فی اھلھاالذلیلة مع بعلھا، الحصان مع غیرہ، التی تسمع لہ وتطیع امرہ، اذا خلابھا بذلت مااراد منھا۔

      ”بہترین بیوی وہ ہے جوبچے پیداکرے۔ محبت کرے اپنے گھرمیں عزیزاورشوہرکی فرمانبردارہو،نیز شوہرکے سامنے پاکدامن ہو، شوہرکی بات سنتی ہو اوراس کی اطاعت کرتی ہواورجب شوہرکے ساتھ تنہائی میں ہوتووہ جو چاہے اسے دیدے“ [53]۔

      نیزفرماتے ہیں : خیرنسائکم التی اذا دخلت مع زوجھا خلعت درع الحیاء۔

      ”بہترین بیوی وہ ہے جوشوہرکے ساتھ ہوتوحیاکی چادراتاردے“ [54]۔

      اوردیگرایسی احادیث ہیںجن میں بیوی کوشوہرکے بسترسے الگ ہونے سے منع کیاگیاہے اورایساکرنے پردنیاہی میں اسے اس کابدلہ ملتاہے اوروہ جب تک شوہرکے پاس نہیں آجاتی فرشتے اس پرلعنت کرتے رہتے ہیں۔

      نیز بیوی کے لئے ضروری ہے کہ شوہرکااحترام کرے اورعہد عشق ومحبت میں اس کے ساتھ پوری طرح شریک رہے پیغمبر فرماتے ہیں :

      لوامرت احدا ان یسجد لاحد لامرت المراة ان تسجد لزوجھا [55]۔

      ”اگرمیں کسی کوکسی دوسرے کاسجدہ کرنے کاحکم دیتاتوبیوی کواپنے شوہر کا سجدہ کرنے کاحکم ضروردیتا“۔

      پیغمبر کے ان فرامین کی روشنی میں بیوی کے لئے ضروری ہے کہ شوہرکے ساتھ بہت لطیف اورنرم رویہ رکھے اورایسے ایسے الفاظ سے مخاطب کرے جواس کے دل میں اترکراس کے چہرے پررونق بکھیردیں بالخصوص جب وہ سارے دن کے کام کاج سے تھکاماندا واپس آتاہے توبیوی کواس کایوں استقبال کرناچاہئے کہ اس کاچہرہ ہشاس بشاش ہوجائے اوراس پراپنی سب خدمات نچھاور کردینی چاہئے،یوں عورت شوہرکی خشنودی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے پیغمبر کافرمان ہے کہ :

      (فطوبی لامراة یرضی عنھا زوجھا)

      ”اس عورت کے لئے خوشخبری ہے جس کاشوہراس سے راضی ہو“ [56]۔

      اوراس سلسلے میں امام باقر فرماتے ہیں :

      لاشفیع للمراةانجح عندربھا من رضازوجھا،ولماماتت فاطمة قام علیھا امیرالمومنین وقال : اللھم انی راض عن ابنة نبیک، اللھم انھا قداوحشت فانسھا [57]۔

      ”بیوی کے لئے پروردگارکے یہاں شوہرکی خوشنودی سے بڑھ کرکوئی سفارش نہیں ہے اورجب حضرت فاطمة دنیاسے رخصت ہوئیں توحضرت علی نے آپ کے پاس کھڑے ہوکرفرمایاتھا ”میرے اللہ میں تیرے نبی  کی بیٹی سے راضی ہوں میرے اللہ یہ وحشت زدہ ہے اسے انس عطافرما“۔

      گذشتہ بحث کاخلاصہ یہ ہوا کہ شوہرکوحاکمیت اورتمکین وتسلط کاحق حاصل ہے اس سے بھی بڑھ کرچونکہ شوہرکے ہاتھ میں گھرکی قیادت ہے لذا جائز حد تک اسے حق اطاعت بھی حاصل ہے پس بیوی اس کی اجازت کے بغیرگھرسے باہرنہیں جاسکتی ہے حدیث میں آیاہے:

      (ولاتخرج من بیتہ الاباذنہ فان فعلت لعنتھا ملائکة السماوات وملائکة الارض، وملائکة الرضا وملائکة الغضب…)۔

      ”بیوی شوہرکی اجازت کے بغیرگھرسے باہرقدم نہیں رکھ سکتی اوراگرایساکرے توزمین وآسمان اوررضاوغضب کے سب فرشتے اس پرلعنت کرتے ہیں“ [58]۔

      کیونکہ عورت ایک ایسی قیمتی شی ٴ ہے جسے پرامن جگہ کی ضرورت ہے اوروہ جگہ گھرہے جواس کی حفاظت کرسکتاہے۔ قرآن عورتوں کومخاطب کرتے ہوئے فرماتاہے:

      وقرن فی بیوتکن ولاتبرجن تبرج الجاھلیة الاولی [59]۔

      اوراپنے گھروں میں بیٹھی رہواورپہلے زمانہ جاہلیت کی طرح اپنابناؤاورسنگھارنہ دکھاتی پھرو“۔

      اس کے علاوہ شوہرکے دیگرحقوق بھی ہیں جیسے اس کی عزت کی حفاظت کرنااس کی عدم موجودگی میں اس کے اموال کاخیال رکھنا اس کے راز کوافشانہ کرنا اور بیوی شوہرکی اجازت کے بغیرمستحب روزہ بھی نہیں رکھ سکتی۔

      عام طورپرازدواجی زندگی کے پھلنے پھولنے کے لئے باہمی رضا،احترام اورخدمت کی ضرورت ہے جیسے پھول کوکھلے رہنے کے لئے روشنی، پانی اورہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔

      اس نکتے کی طرف اشارہ کرنابھی ضروری ہے کہ میاں بیوی کاایک دوسرے کے حقوق کاخیال رکھنا فقط ذمہ داری کواداکرنانہیں ہے بلکہ اس پرعظیم ثواب بھی ہے۔

      پس اگرمرد اپنی بیوی کوپانی پلائے تواسے اس کابھی اجرملے گا [60]۔

      اورجوشخص اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کرے اللہ تعالی اس کی عمرمیں اضافہ کرتاہے  [61]۔

      اوراس کے مقابلے میں جوعورت سات دن تک اپنے شوہرکی خدمت کرے اللہ تعالی اس پرجہنم کے سات دروازے بندکردیتاہے اورجنت کے آٹھ دروازے کھول دیتاہے جس سے چاہے داخل ہوجائے [62]۔

      اورجوعورت شوہرکے گھرکی ایک چیزکوایک جگہ سے اٹھاکردوسری جگہ رکھے مرتب کرنے کی خاطر، اللہ تعالی اس کی طرف نظررحمت سے دیکھتاہے اورجس کی طرف اللہ نظررحمت کرے اسے عذاب نہیں دیتا [63]۔

      نیزاس بات کی طرف اشارہ کرناضروری ہے کہ انسان کے بنائے گئے قوانین کی نسبت الہی قوانین میں کہیں زیادہ حقوق کی ضمانت دی گئی ہے کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین میں کسی بھی شخص کے لئے حیلے، رشوت،دھونس ودھمکی اورزبردستی وغیرہ کے ذریعے حقوق سے بچ نکلنا ممکن ہوتاہے۔

لیکن قوانین الہیہ توان کے نافذکرنے کے لئے نہ فقط خارجی اسباب موجود ہیں جیسے عدالتیں وغیرہ بلکہ داخلی اسباب بھی ہیں جیسے عذاب الہی اورخداکی ناراضگی یہ عوامل انسان کوان حقوق کے اداکرنے پرمجبورکرتے ہیں آورہرمسلمان دوسروں کے حقوق اداکرکے خدائے متعال کی خشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اورقرآن کریم دوسروں پرظلم کوآخرکاراپنے پرظلم شمارکرتاہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے :

      ولاتمسکوھن ضرارا لتعتدوا ومن یفعل ذلک فقدظلم نفسہ ۔

      ”خبردارنقصان پہنچانے کی غرض سے انہیں (بیویوں) نہ روکناکہ ان پرظلم کروکہ جوایساکرے گاوہ خود اپنے نفس پرظلم کرے گا“۔

      یوں ایک دینی ماحول حقوق وفرائض کی ادائیگی سے مانع ہرقسم کے شیطانی مکرکولگام دینے کاذریعہ ہے لیکن قانون سازانسان کے یہاں اپنے افکارکو لگام دینے کے فقط دوداخلی عوامل ہیں ضمیراوراخلاق اوریہ بھی اکثراوقات مختلف وجوہات کی بناپرسید ھے راستے سے منحرف ہوجاتے ہیں، اس کے یہاں معیار بدل جاتے ہیں اور برائی نیکی بن جاتی ہے اورنیکی بدی۔

      اس کے علاوہ اسلام میں جتماعی اورعبادی پہلوؤں کے درمیان بہت گہرا تعلق ہے لہذا دوسروں کے حقوق کی پروانہ کرکے اجتماعی پہلومیں ہرقسم کی سستی عبادت والے پہلوپربھی منفی اثرڈالتی ہے حدیث نبوی میں اس کی یون وضاحت کی گئی ہے:

      من کان لہ امراة تؤذیہ،لم یقبل اللہ صلاتھا، ولاحسنة من عملھا حتی تعینہ وترضیہ وان صامت الدھر… وعلی الرجل مثل ذلک الوزر، اذا کان لھا مؤذیا ظالما [64]۔

      ”جوبیوی اپنے شوہرکواذیت دے اللہ تعالی اس وقت تک اس کی نماز اورکسی دوسری نیکی کوقبول نہیں کرتاجب تک وہ اس کی مددنہ کرے اوراسے راضی نہ کرے چاہے ساری زندگی روزے رکھتی رہے اوراگرمرد اس پرظلم کرے اوراسے اذیت دے تواس پربھی ایساہی بوجھ ہوگا“۔

      خلاصہ یہ کہ میاں بیوی کے ایک دوسرے پرحقوق ہیں جن میں کسی قسم کی غفلت خاندان پرمہلک اثرات ڈالتی ہے اورانہیں اداکرنا اجتماعی وحدت فراہم کرتاہے۔

خلاصہ  :

      اس کتاب کی پہلی فصل سے مندرجہ ذیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

      ۱۔ مکتب اسلام نے دیگرتمام مکاتب سے پہلے حقوق انسانی کوکماحقہ اہمیت دی ہے چنانچہ پیغمبر نے حجة الوداع کے موقع پرانسانوں کے درمیان مساوات کااعلان کیا امیرالمومنین نے اپنے عند حکومت میں مالک اشترکوتاریخی دستاویزتحریرکی اورامام زین العابدین نے پہلی صدی ہجری میں حقوق کے بارے میں ایک جامع رسالہ رقم فرمایا:

      اس سب کامقصد ایسے پرامن معاشرے کاقیام تھا جس کی بنیاد حق وعدالت پرہو۔

      ۲۔ قرآن کریم نے معاشرے کے اجتماعی پہلوکواتنی ہی اہمیت دی ہے جتنی کسی انسان کے اپنے رب کے ساتھ تعلق کواسی لئے افراد کے اوپرایسے بنیادی حقوق عائد کردئیے ہیں جن کاتعلق ان کے وجود اورعزت کے ساتھ ہے۔

      مثال کے طورپرحیات،امن سے استفادہ کرنا،عزت،تعلیم،فکراور اظہاررائے جیسے حقوق جوانسان کی انسانیت اورحریت کوبرقراررکھنے کے لئے ضروری ہیں۔

      ۳۔ مکتب اہل بیت کمزورلوگوں کے مادی اورمعنوی(جیسے عزت واحترام)حقوق اداکرنے پربہت زوردیتاہے۔

      ۴۔ مکتب اہل بیت نے اخلاقی حقوق اداکرنے پربھی بڑا زوردیاہے جیسے استاد، شاگرد، بھائی،ساتھی اورناصح کے حقوق اوریہ ایسے حقوق ہیں کہ جن سے دیگر مکاتب نے تجاہل برتاہے یاانہیں خاص اہمیت نہیں دی ہے۔

      ۵۔ اسلام نے معاشرے کے اندرخاندانی تعلق کے بعدہمسائگی کوسب سے زیادہ اہمیت دی ہے چنانچہ جبرئیل نے پیغمبر کوپڑوسی کے حقوق کے بارے میں مسلسل وصیتیں کیں، اہل بیت کی کثیراحادیث پڑوسی کے حقوق کے بارے میں ہیں اور امام زین العابدین کے رسالہ حقوق میں خاص طورپر۔

      اورحسن جوارکے بارے میں آئمہ کی دقیق نظرکے بارے میں ہم بھی پہلے اشارہ کرچکے ہیں کہ وہ فقط اذیت کاروکنانہیں ہے بلکہ اذیت پرصبرکرنا بھی ہے اورآئمہ نے اسے عملی کرکے دکھایاہے۔

      اوردوسری فصل میں ہم نے تفصیل کے ساتھ خاندانی حقوق کاذکرکیااوراس سے مندرجہ ذیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

      ۱۔ اسلام خاندان کے افراد کے درمیان قائم تعلق اوراجتماعی رشتے کومضبوط کرنے کاخواہشمند ہے چنانچہ والدین کاحق ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیاجائے اوران کاحق اللہ تعالی کے حق کے بعد دوسرے درجے میں رکھاگیاہے۔

      ۲۔ آئمہ نے حقوق والدین کوبیان کرے کے لئے کئی محوروں پرکام کیاچنانچہ اس سلسلے میں واردہونے والی قرآن کی آیات کی تفسیرکی۔ اولاد کے لئے والدین کے سامنے اخلاقی فضابرقرارکی، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی شرعی حدودکوبیان کیااوراسے سب سے بڑا فریضہ قراردیا اوراس کے فلسفے کے طورپردوام نسل اورصلہ رحمی کاقطع نہ کرناذکرکیا، والدین کی نافرمانی کے دنیوی اوراخروی منفی اثرات کوبیان کیااوراس بارے میں اپنی عملی روش کوبہترین نمونے کے طورپرپیش کیا۔

      ۳۔ اسلام نے بچے کی ولادت سے پہلے اوربعد کے حقوق کوبیان کیاہے لذا لڑکیوں کوزندہ درگورکرنے سے ممانعت کرکے انہیں حق وجود کی ضمانت دی، شادی کرنے اورباپ بننے کی ترغیب دلائی اورغیرشادی شدہ رہنے اوررہبانیت اختیارکرنے سے منع کیااورپھرصالح اولادپیداکرنے کے لئے شوہرکوصالح بیوی انتخاب کرنے کاحکمم دیااوربیٹے کے باپ کی طرف منسوب ہونے کے حق کومحفوظ کرنے کے لئے ماں پرتمام رذائل سے دوررہنا لازم قراردیا اسی طرح اسلام نے بچے کوولادت کے بعد کے حقوق کی بھی ضمانت دی ہے جیسے زندہ رہنے کاحق چنانچہ اسلام کسی بھی صورت میں اورکسی بھی ذریعے سے ان کی زندگی ختم کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

      ۴۔ اسلام نے اولاد کویہ حق دیاہے کہ ان کے درمیان عدل ومساوات قائم کی جائے اورلڑکے اورلڑکی کے درمیان امتیاز نہ کیاجائے اورآئمہ کی سیرت بھی اس کی گواہ ہے چنانچہ انہوں نے ہمیشہ لڑکے کے مقابلے میں لڑکی کوکم اہمیت دینے کی فکرکوختم کرنے کے لئے کام کیا۔

      ۵۔ بچے کی تربیت میں اسلام نے دیگرمکاتب پرسبقت کرنے دئے مرحلہ اورتربیت کی روش کواختیارکیااوربچے کی عمرکوتین حصوں میں تقسیم کیااورہرمرحلے میں بچے کی طاقت کے مطابق اس کی خاص قسم کی تربیت کرنے کاحکم دیا۔

      ۶۔ لڑکے اورلڑکی کے درمیان وراثت کے فرق والے شبہے کاآئمہ نے یوں جواب دیاکہ یہ فرق عین دل ہے کیونکہ لڑکی پرنہ جہاد ہے اورنہ نان ونفقہ بلکہ اس کا اپناخرچ بھی مرد کے ذمے ہے۔

      ۷۔ آئمہ نے اولاد کووصیت کرنے کوآنے والی نسلوں تک اپنی روشن افکاراورکامیاب تجارب کے منتقل کرنے کااس مستقل ذریعہ قراردیا۔

اورتیسری فصل جومیاں بیوی کے باہمی حقوق کے بارے میں تھی سے مندرجہ زیل نتائج برآمدہوتے ہیں :

      ۱۔ اسلام نے بڑی دقت کے ساتھ میاں بیوی کے عقد اورباہمی عہد سے پیداہونے والے حقوق وفرائض کوبیان کیاہے۔

      ۲۔ بیوی جواصل خلقت اورذمہ داری کے لحاظ سے مرد کے مساوی ہے بعض بنیادی حقوق کی مالک ہے ان میں سے بعض مادی ہیں جومعشیت سے متعلق ہیں اوربعض معنوی ہیں جوحسن معاشرت سے متعلق ہیں۔

      ۳۔ شوہرکے بھی بیوی پرحقوق ہیں اورسب سے بڑاحق حاکمیت والاہے لیکن اسلام اسے بیوی کوذلیل کرنے کاذریعہ بنانے کوپسند نہیں کرتا اوراجازت نہیں دیتا کہ حاکمیت کے بل بوتے پربیوی کے مقام کوپست کرے اوراس کے حقوق کی پائمالی کرے نیزشوہرکاحق ہے کہ بیوی اس کی اجازت کے بغیرگھر سے نہ نکلے اوراسے اپنے آپ پرکامل تسلط اورتمکین دے۔

      اورآخرمیں ہم نتیجہ کے طورپریہ بات عرض کرناچاہتے ہیں کہ قوانین الہی انسان کے بنائے ہوئے قوانین کی نسبت حقوق کی پاسداری کی ضمانت زیادہ دیتے ہیں کیونکہ انسان کے بنائے ہوئے قوانین سے انسان بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتاہے لیکن الہی قوانین میں افراد کوکنٹرول کرنے کے لئے داخلی عوامل ہیں جسے عذاب الہی اورخدا کی ناراضگی اورخارجی عوامل ہیں جیسے سزاکے قوانین ۔

      نیزہم نے یہ بھی بیان کیاتھا کہ اسلام اجتماعی اورعبادی پہلوؤں کے درمیان گہرے ارتباط کاقائل ہے اوراجتماعی پہلو میں ہرقسم کی غفلت عبادی پہلوپرمنفی اثرڈالتی ہے۔

      والحمدللہ علی ھدایتہ والصلاة والسلام علی اشرف الانبیاء والمرسلین محمد وعلی آلہ الطیبین الطاہرین وصحبہ المخلصین ومن سارعلی نہجھم الی یوم الدین وآخردعوانا ان الحمد للہ رب العالمین



[1] - بحارالانوار۱۰: ۷۸۔

[2] - سورہ ھود ۱۱: ۵۲۔

[3] - بحار ۱۰۴:۹۵۔

[4] - تنبیہ الخواطر۳۹۰۔

[5] - بحار ۱۰۲: ۱۶۲۔

[6] - وسائل ۶:۲۶۱/۱باب من ابواب الصدقة۔

[7] - وسائل ۱۵:۱۹۵/۷باب ۸۳ازابواب احکام اولاد ۔

[8] - بحار ۱۰۴:۹۵۔

[9] - وسائل ۱۵:۱۹۵/۶ باب ۸۳از ابواب احکام الاولاد-

[10] - المعجم المفھرس لالفاظ غررالحکم ۲:۷۴/۱۰۵۲۹۔

[11] - تنبیہ الخواطر۳۹۰۔

[12] - البحار۷۹:۱۰۲۔

[13] - فروع کافی ۳:۴۰۹/۱ باب صلاة الصبیان ومتی یؤخذون بھا،و۴:۱۲۵/۱باب صوم الصبیان ومتی یؤخذون بھا۔

[14] - بحار ۱:۱۶۵۔

[15] - الطلاق ۶۵:۱۲۔

[16] - بحارالانوار ۱۶:۱۶۹۔

[17] - کنزالعمال ۱۶:۵۸۴/۴۵۹۵۳۔

[18] - نہج البلاغہ تربیت ڈاکٹرصبحی صالح کتاب ۳۱۔

[19] - بحار۱: ۲۹۴۔

[20] -البحار ۷۴:۸۰۔

[21] - کنزالعمال ۱۶:۴۴۳/۴۵۳۴۰۔

[22] - وسائل ۲۱:۵۷۸/۵باب ۸۴از ابواب احکام الاولاد۔

[23] - فروع کافی

[24] - سورہ یوسف ۱۲:۵۔

[25] - تفسیرثعلبی

[26] - کنز العمال ۱۶:۴۴۶/ ۴۵۳۵۸اور۴۵۳۵۷۔

[27] - کنزالعمال

[28] - کنزالعمال ۱۶:۴۴۴/۴۵۳۴۶۔

[29] - سورہ نساء ۴:۱۱۔

[30] - بحارج۱۰۴: ص۳۲۸۔

[31] - سورہ نحل ۲۷:۱۶۔

[32] - کنزالعمال ۵: ۶۲۵/۱۴۱۰۱۔

[33] - البقرہ ۲: ۱۳۲۔۱۳۳۔

[34] - بحار ج۷۸ص۴۵۳۔

[35] - نھج البلاغہ ۔صبحی صالح۔مکتوب ۳۱۔

[36] - تحف العقول ۸۸۔

[37] - شرح رسالة حقوق۱:۵۸۱ حسن القبانچی۔

[38] - سورہ روم ۳۰:۲۱۔

[39] - سورہ نساء ۴: ۲۵۔

[40] - سورہ نساء ۴: ۴۔

[41] - سورہ بقرہ ۲: ۲۲۸۔

[42] - سورہ نساء ۴:۱۔

[43] - سورہ نحل ۱۶:۹۷۔

[44] - سورہ تحریم ۶۶:۱۱۔

[45] - بحار ج۱۰۳ص۲۵۳۔

[46] - بحار ج۱۰۳ص۲۵۳۔

[47] - وسائل الشیعہ ۶: ۱۳۴۔

[48] - میزان الحکمة ۱:۱۵۷۔

[49] - بحارالانورا ۷۸:۲۳۷،تحف العقول :۲۳۸۔

[50] - وسائل الشیعہ ۱۴:۱۸۳/باب ۱۴۱ازابواب مقدمات النکاح وآدابہ۔

[51] - سورہ نساء ۴: ۳۴۔

[52] - النساء ۴: ۱۹۔

[53] - مستدرک الوسائل ابواب مقدمات النکاح باب ۵،۱۴:۱۶۱/۱۰۔

[54] - مستدرک الوسائل ابواب مقدمات النکاح باب ۵،۱۴:۱۶۰/۶۔

[55] - وسائل الشیعہ ابواب مقدمات النکاح باب ۸۱،۱۴:۱۱۵/۱۔

[56] ۔بحارالانوارج۱۰۳ص۱۴۶۔

[57] ۔بحارالانوارج۱۰۳ص۲۵۷۔

[58] ۔ مستدرک الوسائل : ابواب مقدمات النکاح باب ۶۰،۱۴:۲۳۷/۱۔

[59] ۔ الاحزاب ۳۳:۳۳۔

[60] ۔ بحارالانوارج۱۰۳ص۲۲۵۔

[61] ۔ امام صادق کے فرمان کااقتباس بحارالانوار ج۱۰۳ ص۲۲۵۔

[62] ۔ امام علی کے فرمان کااقتباس(وسائل الشیعہ ابواب مقدمات النکاح باب ۸۹،۱۴:۱۲۳/۲۔

[63] ۔ امام صادق کے فرمان کااقتباس بحارالانوارج۱۰۳ ص۲۵۱۔

[64] ۔ وسائل الشیعہ ابواب مقدمات النکاح ۱۴،۱۱۶/۱باب ۸۲۔